Saturday, February 22, 2014

تمرین المیراث تمرین المیراث tamreen ul mirath tamrinul meerath tamreen al mitath تمرين الميراث تمرین المیراث

  • تمرین المیراث
  • تمرین المیراث
  • tamreen ul mirath
  • tamrinul meerath
  • tamreen al mitath
  • تمرين الميراث
  • تمرین المیراث
  • بسم اللہ الرحمن الرحیم
  • نحمد ہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
  • اللہ تعالی کا خصوصی فضل وکرم ہے کہ بندہ نے علم میراث درجہ تخصص کے طلباء کرام کو کئی سال پڑھایا ،الحمدللہ ہر سال کے طلباء کرام نے سال کے پہلے مہینہ میں ہی بہت فائدہ محسوس کیا ۔ان طلباء کرام میں سے تقریبا99.9فیصد طلباء کرام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو علم میراث کے مسائل حل کرنا ایسے ہی لگتا ہے جیسے کہ کندھے پر پہاڑ اٹھانا ……اور ان میں سے کئی طلباء کرام ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے علم میراث کو صرف دو مہینہ ،ایک مہینہ ،اور دوہفتوں میں بھی پڑھا ہوتا ہے ،اور ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے   علم میراث کا ایک سبق بھی نہیں پڑھاہوتا۔میں ان کے مدت تعلیم کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ،لیکن الحمدللہ بہت جلد وہ مشکل سے مشکل مسئلہ حل کرلیتے ہیں ۔ایسا کیوں ہوتا ہے جبکہ انہوں نے پہلے میراث پڑھی بھی ہوتی ہے لیکن پھر بھی انہیں مسئلہ حل کرنا نہیں آتا ۔؟؟ شاید یہی وجہ ہے کہ تخصص میں ان کو میراث کی کتاب دوبارہ پڑھائی جاتی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ جو طلباء صرف درجہ عالمیہ کی سند پر اکتفاء کرتے ہیں،کیا وہ میراث کے مسائل حل کرپائیںگے،؟؟ یقینا جواب نا میں ملے گا۔کیوں نہ اگر پہلے ہی سے اس کتاب کو صحیح کما حقہ پڑھایا جائے تو دوبارہ پڑھانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے پڑھایا جائے…؟؟اس کا جواب یہ ہے کسی بھی کتاب (خصوصا علم میراث)کوپڑھاتے وقت کتاب کے لفظی ابحاث نہیں،بلکہ جس فن کی کتاب ہو، اس فن کو مقصودبناکرپڑھایا جائے ،ورنہ کتاب کی عبارت اور عبارت میں باریک نکتے ،اختلاف مع دلائل تو یاد ہوںگے،لیکن عملی طور پر مسئلہ حل کرنا نہیں آئے گا۔اور دوسری کمی اس میں یہ ہے کہ میراث کی کتاب پڑھاتے وقت جو مثالیں صاحب کتاب نے مسئلہ سمجھانے کے لیے دیں ہیں، انہی پر اکتفاء کرنا اور ان مثالوں کومشق تصور کرنا کافی نہیں،کیوںکہ مثال اور عملی مشق میں بہت فرق ہے ۔مثال اس لیے لائی جاتی ہے کہ مذکورہ مسئلہ سمجھ میںآ جائے فقط ۔اگر مثال سمجھ میں آجائے تو کیا واقعی مسئلہ سمجھ میں آگیا … یانہیں،؟… اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔اور مشق کرنے کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی ایسا مسئلہ جس کا حکم یہی ہو تویہی حکم لگادینا ،اس کے علاوہ کوئی اور حکم نہ لگانا۔مزیدیہ استعدادپیداہوجاتی ہے کہ آیا یہ مسئلہ بھی اسی طرح ہے یا نہیں ،اس کا حکم یہی ہے یا کوئی اور؟بار باراس عمل کو دہرانے کا نام تمرین اورمشق ہے۔اور مشق کو صحیح حل کرنے کے بعد ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ واقعی مسئلہ سمجھ میںآگیا ہے۔
  • پہلامسئلہ حل کرنے کے لیے ''تفہیم السراجی''پڑھائی ،جس میں غیر ضروری ابحاث کو نظر انداز کیا گیا ہے اور علم میراث کے فن کو مقصودی بناکر زبانی یادکرنے کے لیے مربوط عبارت، جامع قواعد پر مشتمل،اور ہر حکم کی مثالوں سے مزین ہے۔اور دوسرے مسئلہ کوختم کرنے کے لیے طلباء کرام کے ہاتھ میں ''تمرین المیراث''تھمادی۔الحمد للہ اس طریقہ سے دونوں مسائل حل ہوگئے ،اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ بھی یہ طریقہ آزما کر دیکھ لیں کہ ایک سبق'' تفہیم السراجی ''سے پڑھا کر ان کو زبانی یادکروادیا جائے ،اورزبانی یاد کرنا مشکل بھی نہیں ، اس لیے کہ ''تفہیم السراجی ''کی عبارت میں ایک جملہ کا دوسرے جملے کے ساتھ خاص ربط ہے جو ذہن میں خوب بیٹھ جاتاہے ،اور پھر اگلے ہی دن یا اسی دن جن کو یادہوجائیں سنیں،اور اگلے دن کوشش کریں کہ ہرطالب علم سے سبق سناجائے،جو سبق زبانی سنادیں ،اس کے ذمے تمرین کی ایک مشق حل کرنے کے لیے دے دیں،ہر تمرین کو حل کرتے وقت صرف اس چیزکو مدنظر رکھیں ،جواب تک پڑھاگیاہے،جونہیں پڑھااس کونظر اندازکردیں ،مثلا احوال الاب کی تمرین میں صرف یہ دیکھنا ہے کہ''اب''کو سدس (چھٹاحصہ )ملے گا،یا عصبہ بنے گا،یا فرض مع التعصیب ۔اس سے زیادہ کچھ نہ لکھیں ،اور احوال الجد کی تمرین میںصرف جد کے حالات لکھنا کافی نہیں ،بلکہ اگرکسی مسئلہ میں ''جد''کے ساتھ ''اب ''بھی ہے ،تو''اب ''کے حالات بھی لکھنے ہوں گے،کیونکہ ''اب ''کے حالات اس سے پہلے گزرچکے ہیں،البتہ ''بنت '' اور ''ابن ''وغیرہ کے حالات چونکہ اس کے بعد ہوں گے ،اس لیے ابھی سے ان کے حالات کے بارے میں کچھ نہیں لکھیںگے۔ان شاء اللہ طالب علم خود بخود سوالات حل کرتا چلا جائے گا۔اور استاد ہر طالب علم کو پوری توجہ دے دیں اوراگلے دن تمرین المیراث کی کاپی دیکھ لیا کریں ،اور اگر صحیح حل کیا ہے تو اسے شاباش دیں،جہاں طالب علم کوکوئی اشکال ہو،یا شک کرے ،تواستادصاحب طالب علم کو فورا مسئلہ بتانے کی بجائے کوشش کریں کہ جوطالبعلم نے یاد کیا ہے اسی عبارت میں خودطالبعلم اس کا حل نکالے ،اس لیے کہ ''تفہیم السراجی ''کی عبارت میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ،جس کا حل اس کی عبارت میں موجود نہ ہو،لہذاجو طالب علم غلط حل کریں تو استاد کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کو یاتوسبق یاد نہیں ،یا وہ سمجھا نہیں،اس لیے پہلے اس مسئلہ کے متعلقہ ''تفہیم السراجی ''سے یاد کیا ہوا سبق سنیں ،اگر سبق یاد ہو تو سبق سمجھا دیں ،اور پھر طالب علم خود مسئلہ حل کرے ، آپ دیکھیں گے کہ چند دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ،پھر آب دیکھیںگے کہ بہت جلد ان شاء اللہ تعالی طلباء کرام کے >>>>>>>>>اندر ایسی استعداد پیدا ہو گی کہ طلباء کرام………
  • بندہ نے کئی سال اس طریقہ کو آزمایا ہے ،اورپورے سال کسی ایک دن بھی وائٹ بورڈ /تختہ سیاہ پر سوال کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی،سوائے چند سوالات کے، طلبہ خود ہی سینکڑوں سوالات حل کرتے رہے ۔یہاں ایک بات کی طرف ضرور توجہ دلاؤں گا کہ جس طالبعلم کو ''تفہیم السراجی''یاد نہ ہو،اسے ''تمرین المیراث'' کے مسائل حل کرنے کا کوئی حق نہیں''کیونکہ ''تمرین المیراث''تتمہ ہے ''تفہیم السراجی ''کا ۔
  • سراجی کی بہت ساری اردوشروحات نظروں سے گزریں،ان میں عبارت ،اعراب ،ترجمہ ،تشریح تو خوب ہے لیکن مسئلہ حل کرنے کا استعدادبہت کم پیدا ہوتی ہے ،آپ کسی بھی اردو شرح کو سامنے رکھ کر ''تمرین المیراث ''کے مسائل حل کرنا شروع کردیں۔آپ کو خود ہی اندازہ ہوجائے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ پہلے سمجھنا چاہئے پھر یاد کرنا چاہئے ،میں کہتا ہوں جسے کچھ یاد نہ رہتا ہوں وہ کیا سمجھے گا۔؟
  • سال تک جاری رہا ،
  • للہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے قبول کرکے بندہ اور اس کے والدین واساتذہ ،قرابت داروں اورجنہوں نے اس کام میں میرا ساتھ دیا ان سب کے لیے زریعہ نجات بنائے ۔آمین یارب العالمین۔


1 comment:

  1. ماشاء الله بهت اچها ، بارک الله تعالی في علمک وعملک ووفقکم الله تعالی وایانا لمایحبه ویرضاه

    ReplyDelete